Technology
انسٹاگرام اور بچوں کی حفاظت: میٹا کے سابق انجینئر کا اہم عدالت میں بیان
میٹا کے ایک سابق انجینئر نے تاریخی مقدمے میں گواہی دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انسٹاگرام نے بچوں کے تحفظ کے لیے شعوری طور پر غفلت کا رویہ اپنایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملازمین کی تنخواہیں بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رکھنے کے ہدف سے منسلک تھیں۔
واشنگٹن (نیکسو نیوز اردو) میٹا کے ایک سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر، جنہوں نے انسٹاگرام پر بچوں کی حفاظت کے حوالے سے کانگریس کے سامنے بھی گواہی دی تھی، نے بدھ کے روز ایک تاریخی مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری کے سامنے اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں دانستہ طور پر 'نہ پوچھو، نہ بتاؤ' کا طریقہ کار اپنا رکھا تھا تاکہ پلیٹ فارم پر کم عمر صارفین کی سرگرمیوں کو محدود نہ کرناپڑے۔ سابق انجینئر کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ کمپنی کے اندر ملازمین اور مینیجرز کی تنخواہیں اور بونس اس بات سے براہ راست جڑے ہوئے تھے کہ وہ بچوں کو کتنی دیر تک ایپ پر آن لائن رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ انکشافات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حوالے سے پہلے سے جاری خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ بڑی ٹیک کمپنیاں منافع کے حصول کے لیے بچوں کی ذہنی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ اس مقدمے نے ٹیکنالوجی انڈسٹری میں شدید ہلچل مچا دی ہے اور ماہرین صحت نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے ان نئے شواہد کے بعد یہ سوال پھر سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کمپنیوں کو کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے مزید سخت قانون سازی اور ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے وقتوں میں ٹیک انڈسٹری کے کاروباری ماڈلز اور بچوں کی آن لائن سیفٹی پالیسیوں پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ میٹا کی طرف سے اس معاملے پر دفاعی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، تاہم سابق ملازمین کے بیانات نے کمپنی کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔