LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے ایران مخالف فوجی اقدامات اور ایشیائی اتحادیوں کے خدشات

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر اپنے فوجی اثاثوں کو مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل کرنے پر ایشیا میں اس کے اتحادی ممالک شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اتحادیوں کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اس صورتحال سے خطے میں چین کو روکنے کی امریکی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ تنازع کی تیاری کے سلسلے میں اپنے اہم فوجی اثاثوں کو خطے سے منتقل کرنے کے فیصلے نے ایشیا میں موجود امریکہ کے قریبی اتحادی ممالک کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سفارتی اور دفاعی حلقوں کے مطابق، اگرچہ امریکی فوج کی اکثریت تاحال ایشیا پیسیفک کے خطے میں موجود ہے، تاہم ان اہم اثاثوں کی ہلاکت خیز تبدیلی نے اتحادیوں کے دلوں میں سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایشیائی خطے میں امریکہ کے اتحادی طویل عرصے سے اس بات پر انحصار کرتے آئے ہیں کہ واشنگٹن بیک وقت دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی برتری برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں جب امریکی وسائل کو مشرق وسطیٰ کی جانب موڑا جا رہا ہے، تو تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملات پر نظر رکھنے والے ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے چین کو خطے میں اپنی عسکری اور اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ امریکہ کے دفاعی ماہرین اس صورتحال کے ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اتحادیوں کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال یا طاقت کے توازن میں تبدیلی کی صورت میں خطے کا امن خطرے میں نہ پڑے۔