LIVE
Loading Breaking News...

فن لینڈ میں مصنوعی ذہانت اور بے روزگاری کے خدشات پر نیا سروے

News Image
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ فن لینڈ کے نصف سے زیادہ شہریوں کو کام کے ماحول پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی سے ملازمتوں کی نوعیت میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔
فن لینڈ میں کیے جانے والے ایک تازہ ترین سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی نصف سے زائد آبادی کو یہ شدید خدشہ لاحق ہے کہ کام کے ماحول اور دفاتر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مستقبل قریب میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی بالخصوص جنریٹو اے آئی اور آٹومیشن کے رحجان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق فن لینڈ کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے پریشان ہے کہ روایتی ملازمتیں اور دفتری امور اب مشینوں اور کمپیوٹر سسٹمز کے سپرد کیے جا رہے ہیں، جس سے انسانی افرادی قوت کی مانگ میں کمی آ سکتی ہے۔ اگرچہ ماہرین کا ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا کرے گی، تاہم عام شہریوں میں اس تبدیلی کے حوالے سے خوف اور عدم تحفظ کا احساس نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ مزدور یونینز اور پیشہ ورانہ تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کارکنوں کی مہارت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری طور پر تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو کارکنوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور روزگار کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو ملازمین کے حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں نئی مہارتیں سکھانے میں مددگار ثابت ہوں۔ فن لینڈ کے اس سروے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس بحث کو تازہ کر دیا ہے کہ آیا مستقبل کی لیبر مارکیٹ میں انسان اور مصنوعی ذہانت کا باہم بقائے باہمی کیسے ممکن ہو سکے گا۔