Business
چھوٹے کاروبار اور ذاتی کریڈٹ کا استعمال: بلیو وائن کا نیا سرو
بلیو وائن کے ایک نئے قومی سروے کے مطابق پچھتر فیصد چھوٹے کاروباری مالکان نے اپنے کاروبار کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ذاتی کریڈٹ کا سہارا لیا۔ قرض کے حصول کے لیے ناکافی تیاری کی وجہ سے ہر چار میں سے ایک درخواست گزار کو تاخیر یا مسترد ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نئے قومی سروے کے انکشافات کے مطابق ملک بھر میں چھوٹے درجے کے کاروبار چلانے والے ستر فیصد سے زائد مالکان نے اپنے روزمرہ کے کاروباری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ذاتی کریڈٹ کا استعمال کیا ہے۔ اس رجحان نے کاروباری شخصیات کی ذاتی مالیاتی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور مالیاتی ماہرین کے لیے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قرض کے حصول کے لیے ضروری تیاریوں اور دستاویزات کی کمی کی وجہ سے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں درخواستیں التواء کا شکار ہو جاتی ہیں یا پھر مسترد کر دی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہر چار میں سے ایک کاروباری درخواست گزار کو یا تو قرض ملنے میں طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر ان کی درخواست سرے سے مسترد ہی کر دی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کاروباری اور ذاتی مالیاتی کھاتوں کا آپس میں خلط ملط ہونا اور باقاعدہ کاروباری کریڈٹ ہسٹری کا فقدان ہے۔ چھوٹے کاروباری مالکان اکثر اس وقت مالیاتی اداروں سے رجوع کرتے ہیں جب ان کے پاس ہنگامی فنڈز ختم ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ اپنے ذاتی وسائل یا کریڈٹ کارڈز پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ کاروباری اخراجات کے لیے مسلسل ذاتی کریڈٹ کا استعمال نہ صرف کاروباری ترقی کو محدود کرتا ہے بلکہ اس سے مالک کی ذاتی کریڈٹ ریٹنگ بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے کاروباری مالکان مالیاتی منصوبہ بندی پر توجہ دیں اور باقاعدہ کاروباری اکاؤنٹس قائم کریں۔ اس کے علاوہ قرض کے حصول کی درخواست دینے سے پہلے تمام ضروری دستاویزات اور کاغذی کارروائی کو مکمل کیا جائے تاکہ فنڈز کے حصول میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے اور ذاتی مالیات کو محفوظ بنایا جا سکے۔