LIVE
Loading Breaking News...

امریکی دفاعی ٹھیکیداروں کے سی ایم ایم سی سائیبر سیکیورٹی اسکورز پر خدشات

News Image
پینٹاگون کی جانب سے فریق ثالث کے آڈٹ کی لازمی شرط معطل کیے جانے کے بعد امریکی دفاعی ٹھیکیداروں نے اپنے سائیبر سیکیورٹی اسکورز کی درستگی پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے امریکی دفاعی صنعتی بنیاد کی سائیبر سیکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
پینٹاگون کی جانب سے دفاعی صنعتی بیس کے لیے فریق ثالث کے آڈٹ کے احکامات کو عارضی طور پر روکنے کے بعد، اب کئی اہم امریکی دفاعی ٹھیکیداروں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے اپنے سائیبر سیکیورٹی اسکورز شاید درست اور قابلِ بھروسہ نہیں ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سائیبر سیکیورٹی کے نئے معیارات اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے حوالے سے دفاعی شعبے میں شدید بحث جاری ہے۔ نئے جاری ہونے والے اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق، جب تک سخت اور لازمی آڈٹ کا نظام فعال نہیں ہوتا، اس وقت تک ٹھیکیداروں کی جانب سے خود ساختہ یا اندرونی تشخیص پر مبنی اسکورز زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔ دفاعی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی اور تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے وہ سائیبر سیکیورٹی کے موجودہ پیمانوں پر مکمل پورا نہیں اتر پا رہے ہیں، جس سے قومی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دفاعی سپلائی چین میں اس طرح کے سقم سنگین نوعیت کے خطرات کو جنم دے سکتے ہیں۔ اگر ٹھیکیداروں کے سائیبر سیکیورٹی اسکورز حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، تو اس کا مطلب ہے کہ دشمن ممالک یا ہیکرز کے لیے امریکی دفاعی نظام کے خفیہ اور حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ پینٹاگون کے حکام اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے اسکورنگ کے نظام کو مزید شفاف اور سخت بنانے کے لیے نئے اقدامات متوقع ہیں۔ دفاعی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں کو اپنے سائیبر سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ نوعیت کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے تنازعات اور سیکیورٹی خلاء سے بچا جا سکے۔