LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو ایک صدی کا شدید ترین موسمیاتی رجحان، برطانوی انتباہ

News Image
برطانوی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس بار ایل نینو کا رجحان ایک صدی سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ شدید ہوگا۔ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے دنیا بھر میں شدید موسمیاتی خطرات بڑھ جائیں گے۔
برطانوی محکمہ موسمیات (میٹ آفس) نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال ایل نینو (El Nino) کا موسمیاتی رجحان ایک صدی سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ شدید ترین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اور تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گلوبل ویدر پیٹرن شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں تین ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے، جسے ماہرین نے 'بے مثال' قرار دیا ہے۔ درجہ حرارت میں یہ بڑا فرق دنیا کے مختلف خطوں میں شدید موسم کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دے گا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کہیں شدید خشک سالی اور کہیں طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو زرعی پیداوار اور انسانی زندگی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کریں گے۔ ماہرینِ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ اس شدت کے ایل نینو کے اثرات طویل المدتی ہوں گے اور اس سے عالمی معیشت بالخصوص زراعت اور خوراک کی سپلائی لائنز کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس کے منفی اثرات سے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس موسمیاتی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔ عالمی اداروں اور حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں اور ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کریں۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو انسانی جانوں اور املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار پہلے ہی تشویشناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔