Sports
جنوبی کوریا کے فٹبالرز کا شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے اقدامات کا مطالبہ
جنوبی کوریا کی پروفیشنل فٹبال ایسوسی ایشن نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے خلاف کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے مضبوط اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ شدید گرمی میں کھیل کے دوران ان کی صحت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔
سیئول: جنوبی کوریا کی پروفیشنل فٹبال ایسوسی ایشن اور کھلاڑیوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور شدید گرمی کے خطرناک اعداد و شمار کے پیش نظر کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر مضبوط اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرمی کی لہر میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے کھلے میدانوں میں کھیلنے والے ایتھلیٹس کی صحت اور کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کھلاڑیوں اور متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ میچوں کے اوقات کار میں تبدیلی اور کولنگ کے بہتر انتظامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے فٹبال حکام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیں۔ شدید گرمی اور حبس کی وجہ سے کھلاڑیوں میں ڈی ہائیڈریشن، ہیٹ اسٹروک اور تھکن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جو نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ زندگی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر طبی ماہرین سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ ایک جامع پروٹوکول ترتیب دیا جا سکے جو کھلاڑیوں کو اس شدید موسم کے مضر اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔
کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنوبی کوریا میں فٹبال کے میچز کے دوران کھلاڑیوں کو درپیش یہ چیلنجز دنیا بھر کے دیگر خطوں کے لیے بھی ایک انتباہ ہیں۔ جب تک کھیل کی انتظامیہ موسم کی اس شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر بریکس اور میچ کے شیڈول میں لچکدار تبدیلیاں متعارف نہیں کرواتی، اس وقت تک کھلاڑیوں کی صحت کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ناممکن ہوگا۔ متوقع ہے کہ آنے والے دنوں میں فٹبال ایسوسی ایشن اس حوالے سے کوئی نیا ضابطہ اخلاق جاری کرے گی جس سے کھلاڑیوں کو کافی حد تک ریلیف ملنے کی امید ہے۔