Technology
الیس اے آئی رپورٹ: مصنوعی ذہانت سے آپریٹنگ اخراجات میں کمی
الیس اے آئی نے اپنی دوسری سالانہ اسٹیٹ آف اے آئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ہاؤسنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر اپنانے والے 85 فیصد اداروں نے اپنے آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں کمی دیکھی ہے۔
نیویارک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی معروف کمپنی الیس اے آئی نے اپنی دوسری سالانہ 'اسٹیٹ آف اے آئی ان ملٹی فیملی' رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رہائشی اور صحت کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کاروباری کارکردگی میں زبردست بہتری آ رہی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ادارے جنہوں نے مصنوعی ذہانت کو محض سطحی طور پر استعمال کرنے کے بجائے اپنے پورے کاروباری نظام کو اس کے گرد تشکیل نو دی ہے، انہیں نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایسے اداروں میں شامل 85 فیصد افراد اور کمپنیوں نے اپنے آپریٹنگ اخراجات میں نمایاں کمی محسوس کی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کس طرح جدید ترین ٹیکنالوجی روایتی ہاؤسنگ اور ہیلتھ کیئر کے پیچیدہ نظاموں کو بہتر بنا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مزید بڑھے گا اور جو کمپنیاں اس تبدیلی کو قبول کرنے میں تاخیر کریں گی، وہ مارکیٹ کے مقابلے میں پچھڑ سکتی ہیں۔ الیس اے آئی کی یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا کاروباری کامیابی کی بنیادی ضمانت بن چکا ہے، خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور ملٹی فیملی ہاؤسنگ کے شعبے میں جہاں اخراجات کو کنٹرول کرنا ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔