LIVE
Loading Breaking News...

ہانگ کانگ میں تینانمین ویجل کے منتظمین کی قید اور انسانی حقوق

News Image
ہانگ کانگ میں تینانمین چوک کے سالانہ یادگاری شمع روشن کرنے والے منتظمین کو سنگین نوعیت کے عدالتی مقدمات اور قید کا سامنا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان تمام رہنماؤں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہانگ کانگ میں تاریخ کے ایک اہم واقعے کی یاد میں ہر سال منعقد کی جانے والی تقریبات کے منتظمین اس وقت شدید قانونی مشکلات اور قید کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ منتظمین 1989 کے بیجنگ کے تینانمین چوک کے سانحے کے شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی پرامن تقریبات منعقد کیا کرتے تھے، جنہیں اب حکام کی جانب سے سخت قانونی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کو بنیادی آزادیوں پر قدغن قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان منتظمین کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پرامن طریقے سے تاریخ کے ایک دردناک واقعے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام گرفتار افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے کیونکہ انہیں محض اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن اجتماع کے حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں سزاؤں کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ہانگ کانگ میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی آزادیوں اور احتجاج کے حقوق کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ تینانمین چوک کی یادگار تقریبات پر پابندی اور ان کے منتظمین کے خلاف کارروائیاں اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کے محافظ ادارے اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہانگ کانگ کی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے اور سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرے۔