World
چین کا میانمار تجزیہ کار من زن کی حراست پر امریکی دعویٰ مسترد
بیجنگ نے میانمار کے معروف سیاسی تجزیہ کار من زن کی حراست کے معاملے پر امریکی بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ من زن کو گزشتہ ماہ چینی حکومت کی دعوت پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بیجنگ پہنچنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
بیجنگ نے میانمار کے معروف سیاسی تجزیہ کار من زن کی حراست کے حوالے سے امریکہ کے اس دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے جس میں انہیں مبینہ طور پر غلط طریقے سے حراست میں لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ملکی قوانین کے دائرہ کار میں اٹھایا گیا ہے اور اس پر کسی بھی بیرونی طاقت کا اعتراض بے بنیاد ہے۔
تفصیلات کے مطابق من زن کو رواں سال تین جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہیں چینی حکومت کی سرکاری دعوت پر ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے بیجنگ بلایا گیا تھا، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں اور امریکہ نے اس گرفتاری کو غلط قرار دیا تھا۔
امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے اس گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ من زن کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ تاہم، بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ میانمار کی صورتحال اور اس سے جڑے امور پر چینی موقف بالکل واضح ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر تنقید کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں جاری سفارتی کشیدگی میں ایک اور اضافے کی علامت ہے۔