Business
بھارت میں بیٹری اسٹوریج کی خود انحصاری اور چیلنجز
ایک نئی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی، فنانسنگ اور عملدرآمد میں تاخیر کی وجہ سے بھارت کو بیٹری اسٹوریج میں خود کفایت حاصل کرنے میں ایک دہائی کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس شعبے میں چین کو عالمی سطح پر واضح برتری حاصل ہے جبکہ بھارت کی پیداواری صلاحیت اب بھی انتہائی محدود ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کو بیٹری اسٹوریج کے شعبے میں مکمل خود انحصاری حاصل کرنے میں ابھی کم از کم ایک دہائی کا وقت لگ سکتا ہے۔ تکنیکی مشکلات، فنانسنگ کے مسائل اور منصوبوں پر عملدرآمد میں تاخیر اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو ہزار چھبیس تک بھارت میں صرف دو گیگا واٹ آور سیل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت قائم کی جا سکی ہے جو کہ گلوبل مارکیٹ اور مقامی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس کے برعکس چین اس شعبے پر مکمل اجارہ داری رکھتا ہے اور اس کی مجموعی صلاحیت ستائیس سو گیگا واٹ آور کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی عالمی سپلائی چین پر پچاسی سے اٹھانوے فیصد تک گرفت ہے۔ چین کی یہ اجارہ داری کیتھوڈ اور دیگر اہم اجزاء کی تیاری سے لے کر حتمی بیٹری پروڈکشن تک پھیلی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے دیگر ممالک کے لیے اس میدان میں مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ بھارت میں بھی اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں، تاہم فنڈز کی بروقت فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی میں حائل رکاوٹیں ترقی کی رفتار کو سست کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے اسٹریٹجک سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو وہ توانائی کے اس اہم ترین شعبے میں طویل عرصے تک بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے پر مجبور رہے گا، جس سے اس کے گرین انرجی اہداف بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔