Pakistan
پنجاب میں خون کی حفاظت کے لیے جدید NAT اور CLIA ٹیسٹنگ کا نفاذ
پنجاب حکومت نے بلڈ سیفٹی کو مزید بہتر بنانے اور خون سے لگنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے جدید NAT اور CLIA ٹیسٹنگ متعارف کروا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مریضوں کو محفوظ اور معیاری خون کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں بلڈ سیفٹی کے نظام کو مزید موثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نیوکلک ایسڈ ایمپلیفیکیشن ٹیسٹنگ (NAT) اور کیملومینسینس امیونوایسے (CLIA) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اہم طبی اقدام کا بنیادی مقصد خون کے عطیات کی اسکریننگ کے طریقہ کار کو جدید بنانا ہے تاکہ بیماریوں کی منتقلی کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ روایتی ٹیسٹنگ کے مقابلے میں یہ جدید طریقے زیادہ حساس اور درست نتائج فراہم کرتے ہیں۔
نئے نظام کے نفاذ سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسی جان لیوا بیماریوں کے وائرسز کو ونڈو پیریڈ کے دوران بھی باآانی شناخت کیا جا سکے گا۔ اس سے پہلے روایتی ٹیسٹس میں بعض اوقات ابتدائی مرحلے کے انفیکشنز کی تشخیص نہیں ہو پاتی تھی، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق رہتا تھا۔ اب NAT اور CLIA ٹیسٹنگ کی شمولیت سے خون کے خونخوار جراثیم کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے گی اور عطیہ شدہ خون مکمل طور پر محفوظ قرار دیا جائے گا۔
صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی بہترین اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ بلڈ بینکس میں اس جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب سے نہ صرف سرکاری بلکہ نجی ہسپتالوں میں بھی مریضوں کو بڑی راحت ملے گی۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے تحت متعلقہ طبی عملے کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ جدید مشینری کا استعمال بہترین طریقے سے کیا جا سکے اور کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہ رہے۔
ماہرین صحت نے اس اقدام کو پاکستان کے شعبہ طب میں ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے خون کی منتقلی کے دوران ہونے والے انفیکشنز میں نمایاں کمی آئے گی۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے عام آدمی کو صحت مند ماحول اور محفوظ طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔ محکمہ صحت پنجاب اس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے ضلعی سطح پر بھی بلڈ بینکس کی اپ گریڈیشن پر کام کر رہا ہے۔