Technology
ایپیک ممالک کی جانب سے غذائی تحفظ اور جینوم ٹیکنالوجی پر اہم گفتگو
ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن کے رکن ممالک نے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید جینوم ٹیکنالوجیز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زرعی شعبے میں حفاظتی اصولوں کو مزید سخت بنانے پر زور دیا گیا۔
ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) کے رکن ممالک نے حال ہی میں ایک اہم اجلاس کے دوران زرعی جدت طرازی اور فصلوں میں جینوم ٹیکنالوجیز کے محفوظ استعمال کے لیے مضبوط حفاظتی اصولوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ جکارتہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، خطے میں غذائی تحفظ کے چالشات سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اور ایپیک فورم اس ضمن میں ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ماہرین اور حکومتی نمائندوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جدید جینیاتی ٹیکنالوجیز زراعت کی پیداوار کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ رکن ممالک باہمی تعاون کے ذریعے ایسے ضابطے تشکیل دیں گے جو جدید سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں۔ زرعی سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں روایتی زراعت اکیਲੇ تمام غذائی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی، اس لیے جینوم ایڈیٹنگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ تکنیکی معلومات کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور شفاف ضابطہ کار کے ذریعے خطے میں غذائی قلت کے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔