LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا ٹرمپ کی معاشی تباہی کی دھمکی پر ردعمل

News Image
تہران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاشی ناکہ بندی اور تباہی کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس دوران اہم تجارتی شراکت دار چین نے بھی امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
تہران: ایرانی حکومت نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کے خلاف جاری ہونے والی معاشی تباہی کی دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ ایرانی حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکہ نے تہران کی معاشی لائف لائنز کو کاٹنے یا معاشی ناکہ بندی کرنے کی کوئی بھی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ تہران کا ماننا ہے کہ ملک بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور اس طرح کے حربے ایرانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس تنازعے کے اثرات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ چین، جو کہ ایران کا ایک اہم اور سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، نے کھل کر امریکہ کی طرف سے تہران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی سخت مخالفت کی ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ چینی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات معمول کے مطابق جاری رہیں گے اور وہ اس قسم کے بیرونی دباؤ کو تسلیم نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں، مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے جہاں لبنان اور دیگر علاقوں میں اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے معاشی پابندیوں اور سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے معاشی مفادات کا دفاع کیا جائے گا۔