Politics
محمود خان اچکزئی کا نئے انتخابات کا مطالبہ اور وفاقی حکومت پر تنقید
محمود خان اچکزئی نے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں فوری اور شفاف نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کا موقع ضائع کرنے کو ملک کے ساتھ غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں فوری طور پر نئے اور شفاف انتخابات کرانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور حالات کو بہتری کی طرف لے جانے کے سنہری موقع کو ضائع کرنا ملک و قوم کے ساتھ سراسر غداری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت جس بحران سے گزر رہا ہے، اس کا واحد حل عوام کے پاس واپس جانا اور ان کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار سونپنا ہے۔
اس کے علاوہ محمود خان اچکزئی نے سیاسی مخالفین کے خلاف ہرزہ سرائی اور بدزبانی کی سیاست کا فوری خاتمہ کرنے کی بھی شدید ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح سیاسی حریفوں کی عزتِ نفس اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ ہمارے اخلاقی اور پارلیمانی روایات کے بالکل منافی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی رنجشیں بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے کے احترام پر مبنی صحت مند سیاسی کلچر کو فروغ دیں۔
ایک بیان میں انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن ملک میں مکمل طور پر منصفانہ اور شفاف انتخابات کی ضمانت فراہم کر سکیں تو انہیں عبوری وزیر اعظم بنایا جا سکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو ایک آزاد اور خودمختار پارلیمنٹ کی اشد ضرورت ہے جو کسی بھی دباؤ کے بغیر آزادانہ فیصلے کر سکے۔ انہوں نے موجودہ انتخابی و سیاسی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کی اصلاح کے بغیر ملک کو معاشی اور سیاسی دلدل سے نکالنا ناممکن ہے۔