World
ایرانی صدر کا جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم بیان
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ تہران اس وقت طاقت کی پوزیشن میں ہے اور جنگ کے خاتمے پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے فیصلے قومی مفاد اور خودمختاری کے مطابق ہوں گے۔
ایرانی صدر نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ اب یہ مناسب وقت ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اور جنگ کو ایک مضبوط پوزیشن سے ختم کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ تہران اس وقت طاقت کی پوزیشن میں کھڑا ہے اور کسی بھی جارحیت یا دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور سفارتی سطح پر حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جو عناصر ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں یا بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن رہے ہیں، وہ کسی بھی صورت میں حقیقی ایرانی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے ملک کی داخلی سلامتی اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب بیرونی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے اور تمام فریق باہمی احترام کے اصولوں کو تسلیم کریں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان تہران کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے تناظر میں ایران کی یہ پالیسی خطے کی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بیان کے خطے کی سفارتی فضا پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ عالمی رہنماؤں کے آئندہ ردعمل سے لگایا جائے گا۔