World
ٹرمپ کا معاشی ڈی ڈے اور امریکی مارکیٹوں پر اثرات
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کشیدگی نے عالمی مالیاتی اور توانائی کی مارکیٹوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے پہلا اور براہ راست اثر خود امریکی مارکیٹوں پر پڑا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کشیدگی اور جنگی اقدامات نے دنیا بھر کے مالیاتی اور توانائی کے بازاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال کے اثرات اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اس کا پہلا نشانہ کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکی مارکیٹس بنی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اختیار کی جانے والی معاشی اور سیاسی حکمت عملی نے سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس بحران کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور افراط زر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ جب کسی بڑی طاقت کی جانب سے جارحانہ معاشی اور عسکری اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، تو اس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی یہی دیکھا جا رہا ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تجارتی راہیں اور توانائی کے ذخائر خطرے میں پڑ چکے ہیں، جس کا براہ راست خمیازہ امریکی حصص بازار کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
وال اسٹریٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ کسی بھی ناگہانی معاشی نقصان سے بچنے کے لیے اپنے اثاثے محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اور عسکری محاذ آرائی کا بوجھ اب ملکی معیشت برداشت کرنا شروع ہو گئی ہے۔ اگر اس صورتحال کو جلد کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ عالمی اور امریکی معیشت کے لیے ایک طویل المدتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگی جنون اور معاشی دباؤ کی پالیسیاں صرف مخالف فریق کو ہی نہیں بلکہ خود اس ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں جو ان کا آغاز کرتا ہے۔ امریکی عوام اور کاروباری طبقہ اس وقت گہری تشویش میں مبتلا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس 'معاشی ڈی ڈے' کے مزید کیا نتائج سامنے آئیں گے۔