World
ترکیہ کا بنجمن نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس کا مطالبہ
ترکیہ کی وزارتِ انصاف نے غزہ کے لیے امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ایک اور شخص کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ ترکیہ ان پر نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کے تحت مقدمات چلا رہا ہے۔
انقرہ: ترکیہ نے غزہ کے لیے جانے والے ایک امدادی بحری بیڑے پر اسرائیلی فوج کی کارروائی کے ردعمل میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ایک دیگر اسرائیلی شہری افیک موسکووچ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے وارنٹ اور انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ اعلان ترکیہ کے وزیرِ انصاف کی جانب سے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر کیا گیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد انصاف کے تقاضے پورے کرنا اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی آواز بننا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ انصاف کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں شروع کی گئی عدالت کی کارروائی کا حصہ ہے۔ رواں برس جولائی میں جاری ہونے والے وارنٹِ گرفتاری کی روشنی میں وزارتِ داخلہ کو یہ درخواست دی گئی ہے کہ وہ نیتن یاہو اور ان کے ساتھی کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رجوع کریں۔ ان دونوں افراد پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، آزادی سے جبری محرومی، تشدد، املاک کی تباہی اور بحری جہازوں کو ہائی جیک کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مئی کے مہینے میں ترکیہ سے روانہ ہونے والے 'گلوبل سمود فلوٹیلا' میں تقریباً پچاس کشتیاں شامل تھیں جو محاصرہ زدہ فلسطینی علاقے کی طرف گامزن تھیں۔ بحیرہ روم میں اسرائیلی فوج نے ان کشتیوں کو روکا اور اس میں سوار لگ بھگ 430 بین الاقوامی کارکنوں کو حراست میں لے کر پہلے اسرائیلی جیل منتقل کیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پر بھی شدید بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا تھا جس میں وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اور ہاتھ باندھے ہوئے کارکنوں کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔
ترکیہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ اور کارروائیوں کا شروع سے ایک سخت نقاد رہا ہے اور ترک صدر رجب طیب اردگان متعدد بار اسرائیلی وزیراعظم کو نسل کشی کا ذمہ دار قرار دے چکے ہیں۔ ترکیہ کے علاوہ فرانس، اٹلی اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی اس حوالے سے عدالتی کارروائیاں جاری ہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اس دباؤ سے اسرائیل کو سفارتی محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پیش رفت کو جنگی جرائم کے احتساب کی طرف ایک اہم قدم قرار دے رہی ہیں۔