LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور گوگل کا ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی ٹولز کی فراہمی کا معاہدہ

News Image
پاکستان اور گوگل نے ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستانی طلبا کو ایک سال تک گوگل کے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز مفت فراہم کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل کے درمیان ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ایم ہاؤس میں گوگل کے وفد کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ کے دوران اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ وزیراعظم آفس سے جاری ہونے والے سرکاری پریس ریلیز کے مطابق اس معاہدے کے تحت فریقین ڈیجیٹل ہنر، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات اور جدت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس تعاون کا مقصد وزیراعظم شہباز شریف کے اس وژن کو آگے بڑھانا ہے جس کے تحت پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ معاہدے کی ایک نمایاں شق کے مطابق پاکستان کے طلبا کو ایک سال کے لیے گوگل کے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز بشمول گوگل اے آئی پلس اور جেমنی تک مفت رسائی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان اور گوگل نے اسلام آباد میں ایک اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کی تربیت کرے گا۔ دونوں فریقوں نے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس کے پروگرام کو وسیع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس کے تحت سال 2026 تک پاکستان میں ڈیجیٹل ہنر کے 150 ہزار سرٹیفکیٹس دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان اس اشتراک کا دائرہ کار زراعت، فنانس اور سرکاری امور تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ زرعی شعبے میں فصلوں کی مانیٹرنگ، پیشگوئی اور پائیدار کاشتکاری کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے گا جبکہ وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے ڈیجیٹائزیشن پروگرام میں بھی اے آئی پر مبنی ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مدد لی جائے گی۔ آئی ٹی برآمدات اور مسابقت کے فروغ کے لیے حکومت، گوگل اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی جائے گی جو برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرے گی۔ اس معاہدے سے قبل گوگل نے پاکستانی خاندانوں کو انٹرنیٹ پر محفوظ رکھنے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا تھا۔ گوگل ڈاٹ آر جی کے مالی تعاون سے ڈیجیٹل پاسبان نامی اقدام شروع کیا گیا ہے جس کے ذریعے دو لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں حفاظتی ٹول کٹس، ویڈیوز اور والدین کے لیے ورکشاپس فراہم کی جائیں گی۔ گوگل نے رواں ہفتے کے آغاز میں کراچی میں اپنے مقامی دفتر کا باضابطہ افتتاح بھی کیا ہے جسے پاکستان میں طویل مدتی تجارتی موجودگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔