Business
ڈاؤ جونز میں گراوٹ، وال مارٹ کی کمزور فروخت کے اثرات
وال مارٹ کی مایوس کن فروخت کی پیشگوئی اور ٹریژری यीلڈز میں اضافے کی وجہ سے جمعرات کو وال اسٹریٹ پر شدید دباؤ دیکھا گیا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں تقریباً 350 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
نیویارک میں جمعرات کے روز کاروبار کے دوران وال اسٹریٹ پر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 349.23 پوائنٹس یا 0.65 فیصد کی کمی کے ساتھ 53,113.82 پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں اس گراوٹ کی بڑی وجہ ریٹیل کے شعبے کے دیو قامت ادارے وال مارٹ کی جانب سے کمزور فروخت کی پیشگوئی اور ٹریژری यीلڈز میں ہونے والا حالیہ اضافہ ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے باعث حصص کی فروخت میں تیزی آئی، جس سے مارکیٹ کے مجموعی اشاریے نیچے آ گئے۔
وال مارٹ نے اگرچہ آمدنی کے کچھ اعداد و شمار میں بہتری دکھائی تھی، تاہم مستقبل کے لیے فروخت کی سست رفتار ترقی کے بارے میں خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ ریٹیل سیکٹر کے اس بڑے کھلاڑی کا مایوس کن نقطہ نظر پورے بازار پر اثرانداز ہوا، بالخصوص جب معاشی ماہرین پہلے ہی مہنگائی اور بلند شرح سود کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی ٹریژری यीلڈز میں دوبارہ بحالی اور تیزی دیکھی گئی، جس نے اسٹاک مارکیٹ کی کشش کو متاثر کیا اور سرمایہ کاروں کو فکسڈ انکم سیکیورٹیز کی طرف مائل کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مالیاتی ماحول میں افراط زر کے دباؤ اور مرکزی بینک کی ممکنہ مانیٹری پالیسیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا کارپوریٹ سیکٹر آنے والے سہ ماہی نتائج میں اس چیلنجنگ صورتحال سے نبردآزما ہونے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اس وقت وال اسٹریٹ پر بے یقینی کی فضا برقرار ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک معاشی اشاریے مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوتے، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔