AI
مصنوعی ذہانت اور انسانی سوچ: کیا اے آئی واقعی عقلمند ہے؟
معروف کمپیوٹر سائنٹسٹ میلانی مچل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی طرح سوچنے یا استدلال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ہمیں مشینی ادراک کو بہتر طریقے سے جانچنے کے لیے نئے اور درست پیمانے بنانے کی ضرورت ہے۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا رکھا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئی ٹیکنالوجیز سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم، اس تمام ترقی کے درمیان ایک بنیادی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم اے آئی کی انٹیلی جنس یا ذہانت کے بارے میں درست سمت میں سوچ رہے ہیں؟ حال ہی میں معروف کمپیوٹر سائنٹسٹ میلانی مچل نے اس اہم موضوع پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح عام لوگ اور بعض اوقات ماہرین بھی مصنوعی ذہانت کی اصل صلاحیتوں کے بارے میں مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، اے آئی کے سسٹمز بظاہر انتہائی پیچیدہ کام انجام دیتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ انسانوں کی طرح سوچنے یا گہرائی میں جا کر استدلال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میلانی مچل کا کہنا ہے کہ موجودہ اے آئی ماڈلز بڑے پیمانے پر دستیاب ڈیٹا اور پیٹرن میچنگ پر انحصار کرتے ہیں، نہ کہ حقیقی فہم و فراست پر۔ یہ الگورتھم زبان اور تصاویر کو شاندار طریقے سے ترتیب دے سکتے ہیں، لیکن وہ اس کے پیچھے موجود منطق یا حقائق کو نہیں سمجھتے۔ اگر تھوڑا سا بھی سیاق و سباق بدل دیا جائے تو یہ سسٹمز بعض اوقات ایسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں جو ایک عام انسان کبھی نہیں کرتا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشینی ذہانت اور انسانی دماغی صلاحیت میں ایک بہت بڑا اور بنیادی فرق موجود ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں، سائنسدانوں اور محققین کو اب اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی کارکردگی اور ادراک کی پیمائش کے لیے نئے اور بہتر طریقے تیار کریں۔ روایتی ٹیسٹ اب اے آئی کی حقیقی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ یہ اکثر اوقات صرف یادداشت یا ڈیٹا ری فلیشن کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک بہتر تشخیصی نظام کے بغیر، ہم نہ صرف اے آئی کی حقیقی حدود کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے بلکہ اس کے خطرات کا بھی درست اندازہ نہیں لگا سکیں گے۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کو زیادہ محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی پختگی اور سمجھ بوجھ کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔