LIVE
Loading Breaking News...

ایجنٹک اے آئی مارکیٹ 2033 تک 205 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی

News Image
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی نئی رپورٹ کے مطابق ایجنٹک اے آئی کی عالمی مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو سال 2033 تک خاطر خواہ حجم حاصل کر لے گی۔ یہ جدید ٹیکنالوجی مختلف کاروباری شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کی نئی لہر لے کر آرہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی ایک نئی قسم 'ایجنٹک اے آئی' تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور تازہ ترین مارکیٹ رپورٹس کے مطابق اس شعبے میں تاریخی مالیاتی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ معروف ریسرچ فرم مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی ایجنٹک اے آئی کی مارکیٹ جو سال 2026 میں اندازاً 19.33 ارب امریکی ڈالر تھی، اب طوفانی رفتار سے ترقی کرتے ہوئے سال 2033 تک 205.88 ارب امریکی ڈالر کے شاندار ہدف کو چھو لے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس پورے دورانیے کے دوران اس مارکیٹ کی سالانہ مرکب شرح سود یعنی سی اے جی آر تقریباً 40.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو ٹیکنالوجی کی تاریخ میں کسی بھی شعبے کی تیز ترین ترقی میں سے ایک ہے۔ ایجنٹک اے آئی روایتی مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے کافی مختلف ہے کیونکہ یہ محض احکامات پر عمل کرنے کے بجائے خود مختار فیصلے کرنے اور پیچیدہ مقاصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کاروباری ادارے اپنے روزمرہ کے امور، کسٹمر سروس، اور ڈیٹا کے تجزیات کو اس طرح خود کار بنا سکتے ہیں جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ دنیا بھر کی بڑی بڑی کمپنیاں اور کارپوریشنز اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی مسابقتی برتری کو برقرار رکھ سکیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آنے والے برسوں میں صحت، فنانس، مینوفیکچرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ایجنٹک اے آئی کا استعمال سب سے زیادہ ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے الگورتھمز مزید بہتر ہوں گے اور سیمی کنڈکٹر کی دنیا میں ترقی جاری رہے گی، ایجنٹک اے آئی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ رپورٹ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض تجرباتی مرحلے سے نکل کر تجارتی اور صنعتی سطح پر ایک ناگزیر حقیقت بن چکی ہے، جس سے عالمی معیشت اور روزگار کے مواقع پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔