LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر کا جنگ کے خاتمے کا مطالبہ اور طاقت کی پوزیشن کا ذکر

News Image
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تہران اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اور سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہئے۔
تہران: ایرانی صدر نے بین الاقوامی برادری اور فریقین کے سامنے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تنازع اور جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران اس وقت طاقت کی پوزیشن میں ہے، لہذا یہ بہترین موقع ہے کہ اس کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ ایرانی صدر کے اس بیان کو خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے سخت گیر ناقدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ جو لوگ دشمن عناصر کو دعوت دے رہے ہیں وہ کسی بھی طرح سچے ایرانی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے ملک کے اندرونی اتحاد پر زور دیا اور اندرونی استحکام کو بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔ ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی حالیہ مذاکرات کے نتائج کی منظوری دے دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی اور سیاسی سطح پر سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مختلف ممالک اور سفارتی حلقے اس پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے اندر اور باہر سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے طویل باب کو سمیٹنا آسان نہیں ہوگا، تاہم ایران کی جانب سے طاقت کی پوزیشن میں مذاکرات کی بات کرنا ایک نئے سیاسی لائحہ عمل کی غمازی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے حالیہ مفاہمتی نامدست (ایم او یو) کے حوالے سے بھی ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں تہران کے ہتھیار ڈالنے یا پسپائی کا کوئی بھی نکتہ شامل نہیں ہے۔ ایران نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے لیے منصفانہ اور باوقار راستے کا انتخاب کریں۔