World
مائیک جیفریز کا جنسی اسمگلنگ کیس: عدالت کا اہم فیصلہ
امریکی عدالت نے ایبرکرومبی اینڈ فچ کے سابق سربراہ مائیک جیفریز کو جنسی اسمگلنگ کے مقدمے میں ٹرائل کے لیے ذہنی طور پر فٹ قرار دے دیا ہے۔ جیفریز کو گزشتہ برس ڈیمینشیا اور الزائمر جیسی بیماریوں کے باعث ذہنی طور پر نااہل قرار دیا گیا تھا تاہم تازہ طبی رپورٹوں کے بعد یہ فیصلہ سنایا گیا۔
امریکہ کی ایک عدالت نے ایبرکرومبی اینڈ فچ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مائیک جیفریز کے بارے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں جنسی اسمگلنگ کے سنگین مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر فٹ قرار دے دیا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اب ان پر باقاعدہ قانونی کارروائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ جیفریز اور ان کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک مردوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا اور انہیں اسمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث کیا۔ یہ کیس انتہائی ہائی پروفائل سمجھا جاتا ہے جس نے فیشن انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس عدالت کی جانب سے مائیک جیفریز کو 'ذہنی طور پر نااہل' قرار دیا گیا تھا اور ان کے وکلاء کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ ڈیمینشیا اور الزائمر کی بیماری کے آخری مراحل سے گزر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے خلاف جاری مقدمات کو سمجھنے یا اپنے دفاع میں مدد کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس طبی تشخیص کی وجہ سے قانونی کارروائی التواء کا شکار ہو گئی تھی، جس پر متاثرین اور ان کے وکلاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر سوالات اٹھائے تھے۔
تازہ ترین پیش رفت میں عدالت نے نئی طبی جانچ پڑتال اور ماہرین کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا ہے کہ جیفریز اب ٹرائل کا سامنا کرنے کے لیے کافی بہتر حالت میں ہیں۔ جج کے مطابق، ملزم کے طبی مسائل اتنے سنگین نہیں رہے کہ وہ قانونی عمل کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہوں۔ اس فیصلے کو متاثرین کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے مائیک جیفریز کو ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مائیک جیفریز کے وکلاء کی جانب سے عدالتی فیصلے پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اب کیس کی سماعتوں میں تیزی آئے گی۔ اگر جیفریز پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں سخت قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ مقدمہ نہ صرف ایک فرد کے جرائم بلکہ کارپوریٹ دنیا میں طاقت کے غلط استعمال اور اخلاقی گراوٹ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالتی حکام اب مقدمے کے اگلے مراحل اور ٹرائل کی تاریخوں کا تعین کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔