LIVE
Loading Breaking News...

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا طریقہ کار، وزیر کا دفاع اور سینیٹ میں بحث

News Image
وفاقی وزیر پٹرولیم نے سینیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا پرزور دفاع کیا۔ دوسری جانب اراکین پارلیمنٹ نے شفافیت کی کمی، ٹیکسوں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا۔ اجلاس کے دوران قانون سازوں نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کے مکینزم پر شدید سوالات اٹھائے اور اس عمل میں شفافیت کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اراکین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طریقہ کار سے عام آدمی کو ریلیف ملنے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور پٹرولیم کے شعبے میں جوابدہی کا فقدان نظر آتا ہے۔ دوسری جانب وزیر پٹرولیم نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فیصلے کا دفاع کیا اور اسے مارکیٹ کی حرکیات کے عین مطابق قرار دیا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نظام معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اجلاس کے دوران پی آر ایل (PRL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کو بھی سینیٹ کی سخت برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اراکین نے دونوں اداروں کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے اور غیر تسلی بخش کارکردگی پر شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ پٹرولیم کے شعبے میں ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ پارلیمانی کمیٹیوں اور سینیٹ میں اس قسم کے سوالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عوام میں مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ قانون سازوں کا یہ بھی اصرار تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات کو عام کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ وہ فی لیٹر کتنا ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے یقین دلایا کہ حکومت عوامی مفاد کو سب سے اوپر رکھتی ہے اور پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اپوزیشن ارکان اور بعض حکومتی اتحادیوں کی جانب سے بھی اس پالیسی پر مزید نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں کے اس پیچیدہ نظام کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔