World
ایران اور امریکہ کشیدگی: صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی پر زور دیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے اس لیے اب جنگ کو ختم کرنے کا بہترین وقت ہے۔ انہوں نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری مہینوں طویل جنگ کو ختم کرنے کا اب بہترین وقت ہے، کیونکہ تہران اس وقت واشنگٹن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور باوقار پوزیشن میں ہے۔ ڈاکٹروں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران صدر پزشکیان نے زور دیا کہ پوری دنیا ایران کی پوزیشن کو تسلیم کرتی ہے اور یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ دنیا بھر میں شدید ناپسندیدہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کا خاتمہ ایران کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کا مظہر ہوگا۔
امریکہ کے ساتھ جون میں طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا دفاع کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے ان ناقدین کو جواب دیا جو اسے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں ہے جو تہران کی پسپائی کو ظاہر کرے، بلکہ تمام تر ذمہ داریاں دوسرے فریق پر عائد ہوتی ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے، اگرچہ اس کے باوجود ایران کی پارلیمنٹ میں سخت گیر قانون سازوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ پارلیمان کا ماننا ہے کہ حکومت نے امریکہ کو تزویراتی آبنائے ہرمز کے معاملے پر غیر ضروری رعایت دی ہے۔
دوسری جانب، امریکہ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے معاشی پابندیوں کے نئے سلسلے کی دھمکی دی ہے، جسے تہران نے 'معاشی دہشت گردی' اور 'انسانیت کے خلاف جرم' قرار دیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اپنی معاشی حکمت عملی کے ذریعے ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش کرے گا۔ اس صورتحال پر چین نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہو سکتے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی ذرائع سے تنازعات کا حل تلاش کریں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی 'اکنامک ڈی ڈے' کے اعلان کو امریکہ کے اپنے داخلی معاشی بحران سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے۔