LIVE
Loading Breaking News...

دشت گردی کے متاثرین کا عالمی دن اور پاکستان کے شہداء

News Image
پاکستان نے گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانیں قربان کی ہیں اور بے شمار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی دن کے موقع پر ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہداء اور متاثرین کے اہل خانہ کی مالی و ذہنی بحالی کو یقینی بنائے۔
گزشتہ پچیس برسوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ آج جب پوری دنیا دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور خراج تحسین کا عالمی دن منا رہی ہے، تو ریاستِ پاکستان پر یہ بنیادی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ پُرتشدد انتہا پسندی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم کو دہرائے اور متاثرہ خاندانوں کی مسلسل دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔ سال 2001 سے لے کر 2022 تک کے عرصے میں ملک کے اندر دہشت گردی کے مختلف واقعات اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 83,000 افراد لقمہ اجل بنے۔ اس کے بعد سال 2022 سے لے کر اب تک کے عرصے میں بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافے کے باعث اس ہولناک اعداد و شمار میں مزید ہزاروں جانیں شامل ہو چکی ہیں، خاص طور پر 2021 میں کابل میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کے اندر بدامنی کی لہر میں تیزی آئی ہے۔ ان پچیس برسوں کے طویل سفر کے دوران دہشت گردوں نے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے مساجد اور عبادت گاہوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، مدارس اور مذہبی جلوسوں کو نشانہ بنایا، جس سے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی بڑی تعداد میں شہید ہوئے۔ اس طویل اور کٹھن دورانیے میں دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کے لیے کئی بڑے عسکری آپریشنز کی ضرورت پیش آئی، جن کے نتیجے میں امن بحال کرنے میں مدد ملی لیکن آج ایک بار پھر ملک کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں انسداد دہشت گردی کی نئی حکمت عملیوں پر بحث کے ساتھ ساتھ اس دن کے بنیادی موضوع یعنی 'یادداشت کے ذریعے شفا' کے تحت ہمیں ان تمام لوگوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے جو اس طویل عذاب میں شہید یا شدید زخمی ہوئے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ریاست اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گردی کے متاثرین کے لواحقین، چاہے وہ عام شہری ہوں یا سیکیورٹی فورسز کے جوان، ان کی مالی معاونت پوری دیانت اور احترام کے ساتھ کی جائے۔ جو افراد اس گھنائونے کھیل میں شدید زخمی ہوئے یا مستقل معذوری کا شکار ہو کر روزگار کے قابل نہیں رہے، ان کی کفالت ریاست کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔ مالی امداد کے علاوہ متاثرہ خاندانوں بالخصوص بچوں اور خواتین کو ذہنی اور نفسیاتی صدمے سے نکالنے کے لیے پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ ایک بار پھر عام زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ شہداء کی قربانیوں کو حقیقی خراج تحسین پیش کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے ختم کر دیا جائے۔