LIVE
Loading Breaking News...

توانائی کی خود انحصاری کے لیے مقامی ریفائننگ ضروری: این ایم ڈی پی آر اے

News Image
نائجیرین مڈ اسٹریم اینڈ ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی نے ملکی سطح پر ریفائننگ اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو معاشی استحکام کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف توانائی کی سیکیورٹی یقینی بنے گی بلکہ ملکی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
نائجیرین مڈ اسٹریم اینڈ ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی (NMDPRA) نے ایک اہم بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے مقامی سطح پر ریفائننگ اور گیس کی پروسیسنگ میں سرمایہ کاری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتھارٹی کے حکام کے مطابق، ملک کے توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور درآمدی انحصار کو کم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی ترقی ناگزیر ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد نائجیریا کی اپنی قدرتی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانا اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے بچنا ہے۔ اس حوالے سے پیٹرولیم ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ (PTDF) کی جانب سے بھی افرادی قوت کی تیاری پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نائجیریا اپنی ریفائننگ صلاحیتوں کو جدید بناتا ہے تو اس سے نہ صرف کیپٹل فلائٹ (سرمائے کے انخلا) کو روکا جا سکے گا بلکہ ملکی خزانے کو بھی خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔ مقامی سطح پر ریفائنریز کی فعالیت سے خام تیل کو برآمد کرنے کے بجائے اسے ملک کے اندر ہی پیٹرولیم مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت میں براہ راست بہتری آئے گی۔ مزید برآں، گیس کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔ یہ عمل نہ صرف روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ٹیکنیکل مہارت رکھنے والے نوجوانوں کو مقامی سطح پر کام کرنے کا بہترین ماحول بھی فراہم کرے گا۔ حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا اور پالیسی سازی میں شفافیت لانا ہی اس ہدف کے حصول کی کنجی ہے۔ آخر میں، این ایم ڈی پی آر اے نے واضح کیا کہ توانائی کا پائیدار مستقبل تب ہی ممکن ہے جب نائجیریا اپنی ویلیو چین کو مقامی سطح پر مکمل کرے۔ اس سے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ ملک کی مجموعی برآمدی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی، اس پورے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس سے طویل مدتی معاشی استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔