LIVE
Loading Breaking News...

میٹا اسمارٹ گلاسز پر سنیما گھروں میں پابندی، وجوہات سامنے آ گئیں

News Image
برطانیہ کے سنیما گھروں نے پرائیویسی اور فلموں کی غیر قانونی ریکارڈنگ کے خدشات کے پیش نظر میٹا اسمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلمی مواد کے تحفظ اور تماشائیوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کے متعدد سنیما گھروں نے میٹا اسمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے یا ان کے استعمال کو محدود کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ انڈسٹری کے ماہرین کی جانب سے پرائیویسی اور فلموں کی پائریسی سے متعلق اٹھائے گئے سنگین خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔ سنیما انڈسٹری سے وابستہ گروپوں کا کہنا ہے کہ میٹا کے تیار کردہ ان سمارٹ گلاسز میں کیمرے کی موجودگی انہیں غیر قانونی ریکارڈنگ کے لیے ایک خطرناک ٹول بناتی ہے، جس سے کاپی رائٹ قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ میٹا اسمارٹ گلاسز، جو کہ روایتی عینک کی طرح دکھائی دیتے ہیں، صارفین کو تصاویر لینے اور ویڈیو بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ میٹا کا دعویٰ ہے کہ یہ آلات صرف ذاتی استعمال کے لیے ہیں، لیکن سنیما مالکان کو خدشہ ہے کہ ان کی مدد سے فلموں کے پورے مناظر یا مکمل فلمیں غیر قانونی طور پر ریکارڈ کر کے آن لائن پھیلائی جا سکتی ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کے عام استعمال سے پرائیویسی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور سنیما ہالز اپنی آمدنی اور تخلیقی مواد کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔ صرف سنیما گھر ہی نہیں بلکہ دیگر عوامی مقامات اور نجی محافل میں بھی اسمارٹ گلاسز کے استعمال پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پہننے کے قابل ٹیکنالوجی (Wearable Technology) عام لوگوں کی پرائیویسی کو متاثر کر سکتی ہے کیونکہ یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کب کوئی شخص ریکارڈنگ کر رہا ہے۔ سنیما انتظامیہ نے تماشائیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سنیما ہال میں داخل ہوتے وقت اپنے تمام الیکٹرانک آلات، بشمول اسمارٹ گلاسز، بند رکھیں یا انتظامیہ کے پاس جمع کروا دیں۔ اس معاملے پر میٹا کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اسمارٹ گلاسز کے استعمال کے حوالے سے مزید سخت ضوابط وضع کیے جا سکتے ہیں۔ سنیما مالکان کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے عوامی مقامات پر سکیورٹی اور اخلاقیات کے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں جن سے نمٹنا اب ضروری ہو گیا ہے۔