Business
پاکستان جی ایس پی پلس اسٹیٹس یورپی یونین برآمدات اور حکومتی چیلنجز
پاکستان کو یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحت برآمدات جاری رکھنے کے لیے دو سال کا مہلت ملا ہے۔ اس دوران حکومت کو انسانی حقوق اور گڈ گورننس کے شعبوں میں فوری اور مؤثر عمل درآمد کرنا ہوگا۔
پاکستان کی یورپی یونین کے لیے برآمدات کو آئندہ دو سالوں کے دوران اہم چیلنجز کا سامنا ہے، کیونکہ یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس تجارتی مراعات کے حوالے سے کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق، انسانی حقوق کے ریکارڈ اور گورننس کے شعبے میں پائے جانے والے خلاء کی وجہ سے پاکستان کے اس خصوصی تجارتی درجے کو خطرات لاحق ہیں۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے ان رپورٹس پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ ان رپورٹس میں ملکی سطح پر کی جانے والی اصلاحات کو کم کرکے پیش کیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب زبانی دعوؤں کی بجائے عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس پل کو پار کرنے اور برآمدات کا یہ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اداروں کو اگلے دو سالوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کے لیے مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی ضوابط اور قانون کی حکمرانی جیسے اہم شعبوں میں نمایاں بہتری لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ یورپی یونین کی کڑی شرائط کے تناظر میں تمام متعلقہ وزارتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ اگر اس دو سالہ مدت کے دوران حکومت نے مؤثر عمل درآمد کو یقینی نہ بنایا تو پاکستان برآمداتی شعبے میں ایک بڑے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوں گے بلکہ صنعتی ترقی کا پہیہ بھی سست پڑ سکتا ہے۔