Health
بنگلورو میں جدید کینسر کے علاج کے لیے ایم آر-لینک سسٹم کا آغاز
بنگلورو کے ایچ سی جی کینسر سینٹر نے کرناٹک میں پہلی بار جدید ترین الیکٹا یونیٹی ایم آر-لینک سسٹم کا آغاز کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کینسر کے علاج کے دوران ریئل ٹائم ایم آر آئی کے ذریعے ٹیومر کو درست طریقے سے نشانہ بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔
بنگلورو کے ایچ سی جی (HCG) کینسر سینٹر نے طبی میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے کرناٹک میں اپنی نوعیت کے پہلے 'الیکٹا یونیٹی ایم آر-لینک' (Elekta Unity MR-Linac) سسٹم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ جدید ترین ٹیکنالوجی کینسر کے علاج کے طریقہ کار میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ریڈی ایشن تھراپی اور ایم آر آئی (MRI) کی جدید امیجنگ کو ایک ہی سسٹم میں یکجا کرتی ہے۔ اس انضمام کی بدولت ڈاکٹر اب کینسر کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے ٹیومر کی سرگرمیوں کو ریئل ٹائم میں دیکھ سکیں گے۔
روایتی ریڈی ایشن تھراپی میں اکثر یہ خطرہ رہتا ہے کہ کینسر کے خلیات کے ساتھ ساتھ قریبی صحت مند اعضاء بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس نئے سسٹم کی مدد سے طبی ماہرین ٹیومر کے مقام اور اس کی جسامت میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کو بھی فوری طور پر ٹریک کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر علاج کے دوران ٹیومر اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے، تو سسٹم ڈاکٹر کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ علاج کے منصوبے کو فوری طور پر ایڈجسٹ کر سکیں، جس سے علاج کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور صحت مند بافتوں کو پہنچنے والا نقصان کم سے کم ہو جاتا ہے۔
ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے جو پیچیدہ ٹیومر کا شکار ہیں۔ الیکٹا یونیٹی سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے، ڈاکٹر کینسر کے خلیات پر پہلے سے کہیں زیادہ درستگی کے ساتھ ریڈی ایشن کی خوراک فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف کینسر کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ علاج کے ضمنی اثرات کو بھی کافی حد تک محدود کر دے گا، جو کہ مریضوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
بنگلورو میں اس ٹیکنالوجی کا تعارف طبی سہولیات کے لحاظ سے کرناٹک کو ایک نمایاں مقام پر لے آیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور طب کا امتزاج سنگین بیماریوں کے علاج کو زیادہ محفوظ، تیز اور درست بنا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس جدید نظام سے ہزاروں کینسر کے مریض مستفید ہوں گے اور کامیابی کے تناسب میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔