World
بھارت اور جاپان کی دفاعی شراکت داری: سمندری سکیورٹی معاہدہ طے
بھارت اور جاپان نے بحری سلامتی کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک خطے کو یقینی بنانا ہے۔ دونوں ممالک نے طاقت کے زور پر صورتحال تبدیل کرنے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کی سخت مخالفت کی ہے۔
بھارت اور جاپان نے جمعرات کے روز ایک اہم پیش رفت کے تحت بحری سلامتی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا بنیادی مقصد خطے میں دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور ایک آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کے وژن کو فروغ دینا ہے۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والی اس اعلیٰ سطح کی ملاقات میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور جاپانی وزیر دفاع شنجیرو کویزومی نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بحری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہونی چاہیے اور کسی بھی ملک کو طاقت کے بل بوتے پر سمندری حدود میں تبدیلیاں لانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ معاہدہ دراصل خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص بیجنگ کی جانب سے متنازعہ علاقوں میں یکطرفہ کارروائیوں کے تناظر میں ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس شراکت داری سے دونوں ممالک کے درمیان ملٹری انٹیلی جنس اور تکنیکی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ملاقات کے دوران دونوں وزراء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انڈو پیسیفک خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے باہمی مشاورت اور فوجی مشقوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ اگرچہ اس معاہدے میں کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا گیا، تاہم مبصرین کے مطابق یہ اقدام چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور سمندری حدود پر دعووں کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بھارت اور جاپان کے درمیان یہ دفاعی پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب خطے کے اہم کھلاڑی اپنی بحری طاقت کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ممالک کے وزراء نے خطے میں قوانین پر مبنی عالمی نظام کی پاسداری پر بھی زور دیا تاکہ عالمی تجارت کے اہم بحری راستوں کو کسی بھی رکاوٹ سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت آنے والے وقتوں میں دونوں بحری افواج کے درمیان تکنیکی تبادلے اور مشترکہ ٹریننگ کے مواقع بھی بڑھائے جائیں گے، جو کہ مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بڑی دفاعی دیوار ثابت ہوں گے۔