LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مون سون بحران اور ای آر سی کا ساتواں جائزہ اجلاس

News Image
پاکستان بھر میں شدت اختیار کرتے ہوئے مون سون بحران کے پیش نظر ایمرجنسی رسپانس سیل کا ساتواں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں میں جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اسلام آباد: پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے باعث پیدا ہونے والے بحران میں شدت آتی جا رہی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایمرجنسی رسپانس سیل (ای آر سی) کا ساتواں اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں جاری مون سون کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے اب تک کی گئی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کو مزید مربوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حالیہ مون سون بارشوں نے ملک کے کئی علاقوں میں نظامِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے، جہاں دریائوں اور نالوں میں طغیانی کے باعث نش نشین علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔ ایمرجنسی رسپانس سیل کے اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ عوام کو بروقت طبی امداد، خوراک اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں۔ متعلقہ حکام نے سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر، خصوصاً سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے بھی ہنگامی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے اس بار مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ شدید ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر صوبائی اداروں کے نمائندگان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایمرجنسی کی صورت میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔