LIVE
Loading Breaking News...

یورپی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کے مغربی کنارے کے آباد کاری منصوبے کی مذمت

News Image
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا سمیت اہم مغربی ملکوں نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں نئے آباد کاری کے منصوبے کی شدید مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے اس معاملے پر اسرائیل کے خلاف ممکنہ اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا سمیت کئی اہم مغربی ممالک اور عالمی رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے نئے متنازعہ آباد کاری کے منصوبے پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مغربی دارالحکومتوں میں اسرائیلی حکام سے فوری طور پر اس پالیسی کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی اس صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ان متنازعہ منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھا تو یورپی بلاک اسرائیل کے خلاف مختلف شعبوں اور صنعتوں میں سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جسے عالمی برادری کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتی۔ ان پابندیوں کے تحت تجارتی اور اقتصادی شعبوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے تاکہ اسرائیل کو اس غیر قانونی سرگرمی سے روکا جا سکے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس بستیاتی منصوبے کے اعلان کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ اس قسم کے اقدامات سے زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر اسرائیل اپنے مؤقف پر قائم رہتا ہے تو اس کے مغربی دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے، جبکہ یورپی ممالک کی طرف سے عملی اقدامات اٹھائے جانے کا امکان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔