Politics
عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی: اسلام آباد انتظامیہ کی سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل
اسلام آباد کے چیف کمشنر نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ امتیازی ہے اور جیل قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر نے ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی استدعا کی ہے۔ چیف کمشنر کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کو دیا گیا عدالت عظمیٰ کا حکم امتیازی نوعیت کا حامل ہے، جس سے نہ صرف حکومتی آئینی اختیار متاثر ہوا ہے بلکہ یہ جیل کے مجموعی نظام انصاف کے لیے بھی ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا یہ حکم آئین کے آرٹیکل 25 کی روح کے منافی ہے جو قانون کی نظر میں مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔
درخواست گزار نے اپنے دلائل میں پاکستان جیل رولز 1978 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق قیدیوں کا علاج صرف جیل ہسپتال یا سرکاری سول اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ہی ممکن ہے، اور نجی ہسپتال میں منتقلی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ پٹیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس حکم کو واپس نہ لیا گیا تو یہ دوسرے قیدیوں کے لیے بھی اسی طرح کی سہولیات مانگنے کا دروازہ کھول دے گا، جس سے جیل کا پورا انتظامی ڈھانچہ درہم برہم ہو جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس معاملے میں جیل رولز کی شقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے، جو کہ قیدیوں کی سیکیورٹی اور بیرونی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی ایک نظرثانی اپیل کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے تکنیکی اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا، تاہم اب چیف کمشنر نے باضابطہ طور پر آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت اس معاملے کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ انفرادی ترجیحات پر مبنی نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر جب طبی رپورٹس میں ایسی کوئی فوری اور سنگین صورتحال موجود نہ ہو جس کے لیے صرف نجی ہسپتال ہی واحد راستہ ہو۔
ادھر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کروایا گیا ہے، نہ کہ کسی نجی ہسپتال میں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی ایک قیدی کو خصوصی سہولت فراہم کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی صحت اور خاندان سے ملاقاتوں سے متعلق دیگر درخواستوں کی سماعت کے دوران 18 اگست کو دیئے گئے احکامات پر اب قانونی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جبکہ اعلیٰ عدالت کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی یہ صورتحال انتظامیہ اور عدلیہ کے مابین ایک اہم قانونی نکتہ بن چکی ہے۔