Pakistan
اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کے خلاف پاکستان اور 7 مسلم ممالک کا مشترکہ بیان
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور 'ای ون' منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے اور عالمی برادری کو اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
پاکستان نے سات دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے جاری غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے 'ای ون' (E1) سیٹلمنٹ پلان اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے مشرقی حصے میں بستیوں کی تعمیر کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرتا ہے بلکہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کی حمایت سے آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر کیے جانے والے پرتشدد حملے قابل مذمت ہیں۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ 'ای ون' منصوبہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو ختم کر کے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی واحد قابل عمل حل ہے، جس کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اسرائیلی غیر قانونی توسیعی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔ بیان میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ان تمام اداروں اور افراد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر احتساب کا عمل شروع کیا جائے جو غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور توسیع میں مالی یا سفارتی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک نے واضح کیا کہ احتساب کے فقدان کی وجہ سے ہی اسرائیل اپنی من مانی جاری رکھے ہوئے ہے، لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین کا اطلاق کیا جائے۔
اس سے قبل، ان آٹھ مسلم ممالک نے غزہ تنازعہ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے پر عمل درآمد کے روڈ میپ کو مسترد کرنے پر بھی اسرائیل کی سخت مذمت کی تھی۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور خودمختار ریاست کا جائز حق حاصل ہو سکے۔