Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری افسران کے گھوڑا گاڑی استعمال کرنے پر سخت نوٹس
وزیر اعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران کے عوامی مقامات پر گھوڑا گاڑی کے ذریعے آمد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے ایک حالیہ واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے جس میں سرکاری افسران کو گھوڑا گاڑی کے ذریعے سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اس غیر معمولی اور غیر روایتی طرزِ عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر اور ویڈیوز کے بعد انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور عوامی سطح پر بھی اس طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ سرکاری افسران کو اپنی ذمہ داریوں اور سرکاری وقار کا خیال رکھنا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو عوامی تاثر کو نقصان پہنچائیں۔ وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے جواب طلب کر لیا ہے کہ کن حالات میں یا کس مقصد کے تحت ان افسران نے گھوڑا گاڑی کا انتخاب کیا۔ حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور دفتری نظم و ضبط کے حوالے سے انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں، اس لیے اس واقعے کو محض ایک معمول کا عمل نہیں سمجھا جا رہا۔ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ واقعہ کسی سرکاری تقریب کا حصہ تھا یا افسران کی جانب سے کسی ذاتی پسند یا سستی شہرت کے لیے کیا گیا اقدام تھا۔ حکومت کی جانب سے اس واقعے پر سخت ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ سرکاری اداروں میں نظم و ضبط اور سنجیدگی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف انضباطی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔