LIVE
Loading Breaking News...

اے جے کے اسمبلی: وزراء کے بیانات کی مذمت اور سچائی کمیشن کی حمایت میں قراردادیں منظور

News Image
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی نے حال ہی میں ایک اہم اجلاس کے دوران وزراء کے نامناسب بیانات کے خلاف شدید مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔ اس کے علاوہ ایوان نے حالیہ بدامنی کی تحقیقات کے لیے سچائی اور مصالحتی کمیشن کے قیام کی بھی بھرپور حمایت کی ہے۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) قانون ساز اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں کئی اہم اور حساس امور پر تفصیلی بحث کے بعد متفقہ قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ اسمبلی کے اس اجلاس میں اراکین نے متفقہ طور پر ان تمام بیانات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جو مختلف وزراء کی جانب سے دیے گئے تھے، جن سے عوامی حلقوں اور سیاسی سطح پر بے چینی پھیل گئی تھی۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے خطے کے امن اور باہمی ہم آہنگی کو نقصان پہنچتا ہے، لہذا ذمہ داران کے خلاف مناسب سیاسی اور انتظامی ردعمل ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اجلاس کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، جس کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے خطے کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور دنیا بھر کے فورمز پر کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اجلاس میں ایک اور اہم ترین قرارداد کے ذریعے حالیہ خطے میں پیش آنے والی بدامنی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ ایوان نے ایک 'سچائی اور مصالحتی کمیشن' (Truth and Reconciliation Commission) کے قیام کی بھرپور حمایت کی ہے تاکہ ماضی قریب میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات اور کشیدگی کے اسباب کا شفاف انداز میں تعین کیا جا सके۔ اراکین کا مؤقف تھا کہ اس کمیشن کے ذریعے سچائی کو سامنے لایا جائے گا اور متاثرہ فریقین کے درمیان مصالحے کی راہ ہموار ہوگی۔ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کی جانب سے اس مشترکہ لائحہ عمل کو خطے میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان قراردادوں پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس کے اختتام پر خطے کی ترقی، امن اور سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔