Business
کیریئر میں تبدیلی: 31 سال کی عمر میں انٹرنشپ سے کامیابی تک
مونیکا چنّام نے اپنی ملازمت چھوڑ کر گھریلو ذمہ داریوں کو سنبھالا لیکن 31 سال کی عمر میں دوبارہ انٹرنشپ کے ذریعے نئی صنعت میں جگہ بنائی۔ ان کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر نیا آغاز کرنا ممکن ہے۔
آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی 33 سالہ مونیکا چنّام کی کہانی ان ہزاروں خواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو زندگی کے مختلف مراحل پر اپنے کیریئر کے حوالے سے تذبذب کا شکار رہتی ہیں۔ مونیکا نے اپنی شادی شدہ زندگی اور گھریلو ذمہ داریوں کی خاطر اپنی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ ایک طویل عرصے تک گھریلو خاتون کے طور پر فرائض سرانجام دینے کے بعد، ان کے اندر ایک بار پھر اپنے پروفیشنل کیریئر کو شروع کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ طویل تعطل کے بعد دوبارہ مارکیٹ میں جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ مونیکا نے اس چیلنج کو قبول کیا اور 31 سال کی عمر میں ایک نئی شروعات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور ایک انٹرنشپ کے ذریعے اپنی نئی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ یہ قدم نہ صرف ان کے لیے سیکھنے کا نیا تجربہ ثابت ہوا بلکہ انہوں نے اسے ایک مختلف صنعت میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کے لیے ایک پل کے طور پر استعمال کیا۔ ان کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور عزم و ہمت کے ساتھ کسی بھی وقت نئی مہارتیں سیکھنا ممکن ہے۔ سات سال کے عرصے کے دوران، مونیکا نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف خود کو اس نئی انڈسٹری میں ڈھالا بلکہ ایک مستحکم مقام بھی حاصل کیا۔ ان کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خواتین کو مواقع ملیں اور وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں تو وہ اپنی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بہترین توازن قائم کر سکتی ہیں۔ آج وہ اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنے کیریئر میں بھی بلندیوں کی طرف گامزن ہیں۔ مونیکا کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے ایک سبق ہے جو زندگی میں کسی بھی وجہ سے اپنے کیریئر کو وقفہ دیتے ہیں اور بعد میں دوبارہ شروع کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا اور مناسب وقت پر لیا گیا ایک فیصلہ آپ کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔