AI
مصنوعی ذہانت اور پاکستان کا مستقبل: ماہرین کی حکومت کو ہنگامی وارننگ
مصنوعی ذہانت کے خود ساختہ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ عالمی سطح پر جاری ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے خدشات نے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
حال ہی میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں خود کو ماہر کہلانے والے افراد کے ایک گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی ویلیو چین میں ہماری پوزیشن کافی کمزور ہے، جو مستقبل میں ایک بڑے ڈیجیٹل بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر کے ممالک، بالخصوص سلیکون ویلی اور چین، اپنی تکنیکی برتری ثابت کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے بروقت جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہ کی تو ہم عالمی منڈی میں ایک محض صارف بن کر رہ جائیں گے۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق، ڈیولپمنٹ اور سافٹ ویئر انجینئرنگ کی جو سطح درکار ہے، ہمارا تعلیمی اور صنعتی نظام اس کے معیار سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ خود ساختہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم اپنی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کرتے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنے تعلیمی نصاب اور ملکی معیشت کا حصہ نہیں بناتے تو ہم تکنیکی تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ کیا ہمارے ملک میں موجود ٹیکنالوجی کا انفراسٹرکچر اتنا مضبوط ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کا بوجھ اٹھا سکے۔ چین اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنی پالیسیوں کو انتہائی جارحانہ طریقے سے مرتب کیا ہے تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کر سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہمیں بھی ایسی ہی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو مقامی صلاحیتوں کو نکھارے اور نوجوان نسل کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کرے۔
آخر میں، حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح نجی شعبے کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی جگہ بنا سکے۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل تبدیلی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگر ہم نے اس شعبے میں جلد بازی نہ دکھائی تو مستقبل میں آنے والا تکنیکی انقلاب ہمیں پیچھے چھوڑ دے گا، جس سے معاشی اور سماجی ترقی کی رفتار مزید سست ہونے کا خدشہ ہے۔