World
راجر اسٹون اور ویپ کمپنی تنازعہ: سیاسی اثر و رسوخ کا نیا اسکینڈل
امریکہ کے معروف سیاسی مشیر راجر اسٹون ایک ایسی ویپنگ کمپنی کیلئے لابنگ کر رہے ہیں جس پر بچوں کو غیر قانونی طور پر مصنوعات فروخت کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ نیویارک حکام نے کمپنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور معروف سیاسی مشیر راجر اسٹون ایک ایسی کمپنی کیلئے لابنگ کر رہے ہیں جس پر بچوں کو غیر قانونی طور پر ویپ مصنوعات فروخت کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ نیویارک کے شہر بفیلو میں قائم کمپنی 'ایکٹو ورلڈ' پر گزشتہ تین سالوں سے نیویارک اسٹیٹ اور نیویارک سٹی کے حکام کی جانب سے سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے اپنی مارکیٹنگ کی حکمت عملی میں ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جو خاص طور پر نابالغوں کو تمباکو نوشی کی لت کی طرف راغب کرنے کا سبب بنے۔
ذرائع کے مطابق، 'ایکٹو ورلڈ' نے قانونی مشکلات سے بچنے اور واشنگٹن میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے راجر اسٹون کی خدمات حاصل کی ہیں۔ راجر اسٹون، جو اپنی جارحانہ سیاسی مہم جوئی اور لابنگ کے ہنر کیلئے جانے جاتے ہیں، اب اس کمپنی کے مفادات کے تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ بھر میں ویپنگ اور ای-سگریٹ کے صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے سخت بحث جاری ہے اور حکومتیں ان مصنوعات کی فروخت پر قدغن لگانے کیلئے قانون سازی کر رہی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کمپنیوں کا کم عمر نوجوانوں کو ہدف بنانا معاشرے کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ راجر اسٹون جیسے بااثر سیاسی شخصیت کا اس کمپنی کے ساتھ جڑنا اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ جب ایک کمپنی پر بچوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہوں، تو اس کی سیاسی حمایت کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ کمپنی کو فی الحال متعدد عدالتی مقدمات کا سامنا ہے اور حکام اس کی کاروباری سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ راجر اسٹون کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم واشنگٹن کے سیاسی گلیاروں میں اس شراکت داری پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور حکام کی جانب سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔