LIVE
Loading Breaking News...

این ٹی اے اصلاحات: سپریم کورٹ کی نئی ہدایات جاری

News Image
سپریم کورٹ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلسل کمیٹیوں کی تشکیل کے بجائے عملی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ تعلیمی نظام کے شفاف مستقبل کے لیے فوری اور پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے امور اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اگست 2026 کو جاری کردہ مشاہدات ملکی تعلیمی حلقوں میں بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا ہے کہ این ٹی اے کو اصلاحات کے نام پر محض کمیٹیاں بنانے کے بجائے عملی اور معنی خیز تسلسل کو یقینی بنانا ہوگا۔ عدالت کا ماننا ہے کہ بار بار کمیٹیاں تبدیل کرنے یا نئی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دینے سے تعلیمی نظام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اس سے شفافیت کے عمل میں مزید تاخیر ہوگی۔ عدالتی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ این ٹی اے کو چاہیے کہ وہ اپنی انتظامی ساخت کو مضبوط بنائے اور امتحانی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنائے۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلباء کے مستقبل سے جڑے ہوئے اس اہم ادارے کا وقار تبھی بحال ہوگا جب اس کے فیصلوں میں سنجیدگی اور تسلسل نظر آئے گا۔ عدالت نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اصلاحات کا عمل سست روی کا شکار رہا تو عدالت کو مزید سخت اقدامات اٹھانا پڑ سکتے ہیں کیونکہ طلباء کا اعتماد بحال کرنا اب اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی یہ مداخلت بروقت ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں این ٹی اے کے تحت ہونے والے امتحانات میں بے قاعدگیوں کی شکایات نے طلباء اور والدین میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ اصلاحات کے نام پر ہونے والی وقتی کارروائیاں اب تک کارگر ثابت نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے ادارے پر عوامی اعتماد کم ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت کی دی گئی ہدایات کی روشنی میں ایک مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے جس میں سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور شفافیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ مستقبل کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ این ٹی اے حکام عدالتی حکم نامے کی تعمیل کرتے ہوئے جلد ہی اپنی کارکردگی میں بہتری لائیں گے اور کسی بھی غیر ضروری کمیٹی سازی سے گریز کریں گے۔ تعلیمی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر این ٹی اے نے اپنی ورکنگ میں بہتری نہ لائی تو یہ نہ صرف طلباء کے لیے نقصان دہ ہوگا بلکہ قومی سطح پر تعلیمی معیار کے گرنے کا سبب بھی بنے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات اصلاحات کے سفر میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں بشرطیکہ ان پر ایمانداری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔