LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل فراڈ: جعلی ویڈیو کالز سے کیسے بچیں

News Image
مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز اب ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران چہروں اور آوازوں کی ہو بہو نقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں پیش آنے والا ایک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ڈیجیٹل دھوکہ دہی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا دور جہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب لے کر آیا ہے، وہیں اس نے سیکیورٹی کے سنگین مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ہانگ کانگ میں پیش آنے والا ایک حالیہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اب 'دیکھنے پر یقین کرنے' کا پرانا فلسفہ بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ ایک مالیاتی ادارے کے ملازم کو ایک اہم کارپوریٹ ویڈیو کال میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا، جہاں اسکرین پر موجود تمام چہرے اس کے جانے پہچانے اور افسران کے لگ رہے تھے۔ جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے فراڈ کرنے والوں نے نہ صرف ان افسران کے چہرے بلکہ ان کی آوازوں کو بھی ہو بہو نقل کیا، جس کے نتیجے میں ملازم نے خود کو ایک انتہائی حقیقت پسندانہ مگر جعلی ماحول میں پایا۔ اس واقعے نے پوری دنیا میں سائبر ماہرین کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی اب اتنی زیادہ ترقی کر چکی ہے کہ عام انسان کے لیے اصلی اور نقلی کے درمیان فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ ویڈیو کانفرنس کے دوران جب آپ کے باس یا کولیگ آپ سے مخاطب ہوں اور آپ کو ان کا چہرہ اور آواز دونوں ہی درست محسوس ہوں، تو شکوک و شبہات کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ ہانگ کانگ کے اس واقعے میں ملوث دھوکے بازوں نے کارپوریٹ سطح پر ایک بڑی رقم ہتھیانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا انتہائی مہارت سے استعمال کیا۔ یہ صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا وہ خطرناک پہلو ہے جس پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی کے مطابق، آنے والا وقت ڈیجیٹل تصدیق کے سخت ترین معیارات کا متقاضی ہے۔ کمپنیوں کو اب صرف ویڈیو کالز یا آواز پر انحصار کرنے کے بجائے ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن اور مزید حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر ہم اب بھی پرانی روایتی سیکیورٹی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جانے والے یہ جرائم مزید پھیل سکتے ہیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ملازمین کو تربیت دی جائے کہ وہ کسی بھی مشکوک کال یا غیر معمولی ہدایات پر فوری ردعمل دینے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ آخر میں، مصنوعی ذہانت کو ایک ٹول کے طور پر تو ضرور دیکھنا چاہیے لیکن اس کی حدود کو سمجھنا بھی لازم ہے۔ ٹیکنالوجی جہاں انسانی سہولت کا ذریعہ ہے، وہیں اس کا بے جا استعمال ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔ ہانگ کانگ کا یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ اب آن لائن رابطوں میں بھی غیر معمولی حد تک احتیاط برتنی ہوگی۔ ہمیں اپنی ڈیجیٹل زندگی میں ایسے معیارات قائم کرنے ہوں گے جہاں مشین کی نقل کی گئی آواز اور چہرے پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے حقائق کی تصدیق کی جا سکے۔