Business
بھارتی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں جمود اور معاشی چیلنجز
بھارت میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی سست ترقی معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سروسز سیکٹر کے مقابلے میں صنعتی پیداوار میں عدم توازن ملک کی معاشی ترقی کے اہداف کو متاثر کر رہا ہے۔
بھارت کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں سروسز سیکٹر تو تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن مینوفیکچرنگ یا صنعتی شعبہ اس رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ بھارت کا مینوفیکچرنگ سیکٹر طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے اور یہ ملک کی معاشی ترقی میں اس طرح کا کردار ادا نہیں کر پا رہا جیسا کہ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دیکھا گیا ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اس سست روی کی وجہ سے بھارت کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سروسز سیکٹر، جو کہ آئی ٹی اور دیگر خدمات پر منحصر ہے، ملک کی جی ڈی پی میں تو بڑا حصہ ڈالتا ہے لیکن یہ ہر سطح کے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو ملازمتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں مینوفیکچرنگ کے فروغ میں بنیادی رکاوٹیں پیچیدہ لیبر قوانین، انفراسٹرکچر کے مسائل اور عالمی سطح پر مسابقت میں دشواری ہیں۔ اگرچہ حکومت نے 'میک ان انڈیا' جیسے اقدامات کے ذریعے صنعتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ ابھی بھی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ چین جیسے ممالک کے مقابلے میں، جہاں مینوفیکچرنگ سیکٹر نے لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا اور معیشت کو صنعتی بنیاد پر استوار کیا، بھارت کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ صنعتی پیداوار میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید سازگار بنانا اور چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کی معاونت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور پہلو تکنیکی ترقی اور آٹومیشن کا رجحان بھی ہے۔ جہاں ایک طرف صنعت کاری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روایتی مینوفیکچرنگ کے طریقوں کو چیلنج کیا ہے۔ بھارت کے لیے معمہ یہ ہے کہ وہ اپنی بڑی نوجوان آبادی کو ان نئی صنعتی ضروریات کے مطابق کیسے ڈھالے۔ تعلیم اور ہنر مندی کے پروگراموں کو صنعتی مانگ کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ ورک فورس صرف ملازمت کی تلاش میں نہ رہے بلکہ پیداواری عمل کا حصہ بن سکے۔
مستقبل میں بھارت کی معاشی خوشحالی کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ وہ اپنے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو کس طرح متحرک کرتا ہے۔ اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل، سستی بجلی، بہتر لاجسٹکس اور برآمدات میں سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، تو مینوفیکچرنگ سیکٹر نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے بلکہ جی ڈی پی میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ تب تک، یہ شعبہ بھارتی معیشت کے لیے ایک پیچیدہ معمہ بنا رہے گا جسے حل کرنے کے لیے مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی درکار ہے۔