LIVE
Loading Breaking News...

سام سنگ ٹیکنالوجی چوری کیس: چینی کمپنی سی ایکس ایم ٹی مشکلات میں

News Image
چین کی سب سے بڑی ڈی ریم بنانے والی کمپنی سی ایکس ایم ٹی پر سام سنگ کی خفیہ ٹیکنالوجی چوری کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں ملوث سام سنگ کے سابق انجینئر کو بھی قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
عالمی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ایک بڑا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ چین کی سب سے بڑی ڈی ریم (DRAM) بنانے والی کمپنی 'چینگزن میموری ٹیکنالوجیز' (CXMT) نے سام سنگ کی خفیہ اور پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کو غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ چینی کمپنی کا مقصد اپنی میموری پروسیس ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے سام سنگ کے انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کا غلط استعمال کرنا تھا۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر چپ سازی کی دوڑ میں چین اور مغرب کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس معاملے کی گہرائی اس وقت مزید سامنے آئی جب سام سنگ کے ایک سابق انجینئر کو مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا گیا۔ مذکورہ انجینئر سام سنگ کو چھوڑ کر سی ایکس ایم ٹی میں شامل ہو گیا تھا اور اس پر الزام ہے کہ اس نے سام سنگ کی انتہائی خفیہ دستاویزات اور تکنیکی معلومات کو غیر قانونی طریقے سے چینی کمپنی تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک انجینئر کا عمل نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کے تحت چینی کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو راتوں رات بڑھانا چاہتی تھی۔ سام سنگ کی جانب سے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے تاکہ اپنی ٹیکنالوجی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں اعتماد کے بحران کو جنم دیتے ہیں۔ سی ایکس ایم ٹی، جو چین کی سیمی کنڈکٹر خود انحصاری کی حکمت عملی کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، اب ان الزامات کے بعد عالمی دباؤ کی زد میں ہے۔ دوسری جانب، یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کارپوریٹ جاسوسی کس طرح تکنیکی برتری حاصل کرنے کے لیے ایک خطرناک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ مستقبل میں اس کیس کے نتائج سیمی کنڈکٹر انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، کیونکہ کئی ممالک اب چپ مینوفیکچرنگ میں اپنی ملکیتی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے میموری چپ سازی کے میدان میں تیزی سے ترقی کرنے کی خواہش اور اس کے لیے اپنائے گئے مبینہ غیر اخلاقی ذرائع، اب عالمی تجارت اور سفارتی سطح پر بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قانونی لڑائی سے یہ طے ہوگا کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اپنی محنت سے بنائی گئی ٹیکنالوجی کو حریفوں سے کیسے محفوظ رکھتی ہیں۔