Technology
وویہ پیشن ایس کا سرنگ میں حیران کن 360 ڈگری لوپ اسٹنٹ
وویہ پیشن ایس الیکٹرک گاڑی کے ڈرائیور نے ایک سرنگ کے اندر 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 360 ڈگری کا لوپ مکمل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس خطرناک اور دلچسپ کرتب کے لیے خصوصی ریمپس کا استعمال کیا گیا تھا۔
حال ہی میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جس میں وویہ پیشن ایس (Voyah Passion S) الیکٹرک ایس یو وی کے ڈرائیور نے گاڑی چلانے کی مہارت کی ایک ایسی مثال قائم کی جس پر یقین کرنا بظاہر ناممکن لگتا ہے۔ اس گاڑی نے ایک سرنگ کے اندر 360 ڈگری کا مکمل لوپ کامیابی سے سر کیا، جو کہ آٹوموبائل ٹیکنالوجی اور ڈرائیونگ کی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران گاڑی کی رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ (81 میل فی گھنٹہ) ریکارڈ کی گئی، جو اس اسٹنٹ کو مزید خطرناک اور پیچیدہ بناتی ہے۔
اس کارنامے کو انجام دینے کے لیے ماہرین کی ٹیم نے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ ریمپس کا استعمال کیا، جنہیں سرنگ کے اندر اس انداز سے نصب کیا گیا تھا کہ گاڑی کو لوپ مکمل کرنے کے لیے درکار گریویٹی اور مومنٹم مل سکے۔ الیکٹرک گاڑیوں کی تیز رفتار ایکسیلیریشن اور ان کا بہترین مرکزِ ثقل (Center of Gravity) اس مشکل اسٹنٹ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے عوامل تھے۔ گاڑی کے کنٹرول اور اس کے ایروڈائنامک ڈیزائن نے اسے ہوا میں یا سرنگ کی چھت پر الٹا چلتے ہوئے اپنی گرفت برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جدید الیکٹرک گاڑیاں اب ڈرائیونگ کے ناقابل تصور حدود کو بھی پار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں ماہرین اور عام صارفین اس کرتب کی تعریف کر رہے ہیں۔ انجینئرنگ کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ صرف ڈرائیور کی مہارت کا امتحان نہیں تھا، بلکہ یہ وویہ پیشن ایس کی بیٹری پاور اور چیسس کی مضبوطی کا بھی ایک عملی مظاہرہ تھا۔ اس طرح کے کرتب اکثر مووی سیٹس یا ہائی ٹیک ٹیسٹنگ گراؤنڈز پر کیے جاتے ہیں، لیکن ایک عام سرنگ کے اندر اس پیمانے پر 360 ڈگری لوپ مکمل کرنا انسانی ہمت اور جدید مشینری کے درمیان ایک حسین امتزاج ہے۔
فی الحال یہ واقعہ آٹوموبائل انڈسٹری میں موضوع بحث بنا ہوا ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں مزید اضافہ کرے گا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ای وی (EV) ٹیکنالوجی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کارکردگی اور طاقت کے لحاظ سے بھی روایتی پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں کسی سے کم نہیں ہے۔ اس شاندار کامیابی نے ظاہر کر دیا ہے کہ انجینئرنگ کی مدد سے مستقبل میں ڈرائیونگ کے ایسے کئی کرتب دیکھنے کو مل سکتے ہیں جو آج ہمیں ناممکن لگتے ہیں۔