Politics
محمود خان اچکائی کا سیاسی کشیدگی اور موجودہ ملکی حالات پر سخت ردعمل
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکائی نے ملک میں جاری سیاسی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں بدلنا قومی نقصان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں باہمی احترام اور اصولوں کی پاسداری کریں تو ملک کو بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکائی نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ملنے والے مواقع کو ضائع کرنا قومی مفادات کے خلاف اور غداری کے مترادف ہے۔ اچکائی نے زور دیا کہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر قومی استحکام کے لیے مل بیٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک معاشی اور داخلی طور پر مشکلات کا شکار ہو تو ایسی صورت میں سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف غیر پارلیمانی رویہ اختیار کرنا کسی بھی صورت میں ملکی مفاد میں نہیں ہے۔
محمود خان اچکائی نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں رواداری کا خاتمہ ایک خطرناک رجحان ہے اور سیاسی مخالفین کے خاندانوں کے خلاف تضحیک آمیز زبان کا استعمال نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار کی بھی نفی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں نہ بدلیں اور ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں مکالمے کے دروازے کھلے رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو حقیقی معنوں میں خودمختار ہونا چاہیے تاکہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا بروقت حل نکال سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے شفاف انتخابات کے انعقاد کو ملک کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں باہمی اعتماد بحال کر لیں تو ملک کو عبوری حکومت اور دیگر سیاسی مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔ اچکائی نے خبردار کیا کہ اگر ملک میں غیر آئینی اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر بھی تنقید کی کہ وہ ملک میں جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر رہی ہے، جس کے باعث عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
آخر میں محمود خان اچکائی نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ جمہوریت کی مضبوطی اور اداروں کا اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ہوش کے ناخن لیں گے اور ایک نئے قومی معاہدے کی طرف بڑھیں گے تاکہ ملک کو معاشی تباہی اور سیاسی بحران سے نکالا جا سکے۔ ان کا واضح موقف تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام جماعتیں مل کر کام کریں تاکہ پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال ملک بن سکے۔