LIVE
Loading Breaking News...

بنجمن نیتنیاہو کی امریکہ میں مقبولیت میں کمی اور سوشل میڈیا کا کردار

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے امریکی عوام میں اپنے ملک اور قیادت کی گھٹتی ہوئی مقبولیت کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار روایتی میڈیا کے برعکس سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے کہ امریکی عوام کے اندر اسرائیل اور اس کی موجودہ حکومت کے لیے حمایت میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ واشنگٹن اور عام امریکی شہریوں کی سطح پر جو پزیرائی ماضی میں حاصل تھی، اب اس میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے جو کہ اسرائیلی حکومت کے لیے ایک تشویشناک امر ہے۔ اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے اس گراوٹ کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا مواد حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے اور نوجوان نسل تک منفی بیانیہ تیزی سے پہنچاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام بالخصوص نئی نسل میں اسرائیل کے تئیں رویے میں منفی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں اسرائیل کے لیے عوامی حمایت میں کمی پر اب اعلیٰ سطحی حلقوں میں بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ غزہ اور خطے کی دیگر کشیدہ صورتحال کے بعد امریکہ کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں اسرائیل کے اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے دو طرفہ تعلقات اور عوامی سطح پر ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔