Business
عالمی معیشت پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور امریکی بانڈز کے اثرات
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی بانڈز کے منافع میں اضافے کے باعث عالمی منڈیوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں گزشتہ کچھ روز سے گہری تشویش پائی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور امریکی بانڈز کے منافع میں مسلسل تیزی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کر چکی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپناتے ہوئے اسٹاک مارکیٹوں سے اپنے سرمائے کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت پیدا ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے سپلائی چین کے حوالے سے عالمی خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات اور آبنائے ہرمز جیسی اہم گزرگاہوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے تیل کی قیمتوں کو مسلسل دوسرے ہفتے اوپر کی جانب دھکیلا ہے۔ امریکی انوینٹریز میں اضافے کے باوجود مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مستحکم ہونے کے بجائے اوپر کی طرف جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی بانڈز کے منافع (Yields) میں اضافے نے بھی اسٹاک مارکیٹوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس سے عالمی سطح پر حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ بانڈز میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھنے والے سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ کے رسک سے بچنے کے لیے اپنا رخ تبدیل کر لیا ہے۔
اس صورتحال کا اثر صرف ایک مخصوص خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے متاثر ہو رہی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو بڑھانے کا ایک بڑا سبب بنتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک اسی سطح پر برقرار رہیں تو عالمی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں صارفین کے لیے اشیاء خوردونوش اور ضروریات زندگی مہنگی ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار اب بڑی احتیاط کے ساتھ مارکیٹ کے اگلے رجحانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی جھٹکے سے بچا جا سکے۔