Business
سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ، 4600 ڈالر فی اونس کی سطح پار
امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور قرضوں سے متعلق خدشات کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں نے 4600 ڈالر فی اونس کی اہم سطح کو عبور کر لیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور امریکی ٹریژری کے اقدامات سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد سونے کی قیمت 4600 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی حد کو عبور کر گئی ہے۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں متواتر کمی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق جب دنیا بھر کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ اثاثہ کے طور پر منتخب کرتے ہیں، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔
امریکی ٹریژری کی جانب سے کیے جانے والے نئے اقدامات اور بائی بیکس (Buybacks) کے عمل نے مارکیٹ کے رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران سونے کی قیمتوں میں آنے والی اتار چڑھاؤ کے بعد اب ایک بار پھر تیزی کا رجحان بحال ہو چکا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی معیشت کے حوالے سے ابھرتے ہوئے خدشات اور مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی سونے کی قیمتوں کو آنے والے دنوں میں مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔
تکنیکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں اب ایک مستحکم اپ ٹرینڈ میں داخل ہو چکی ہیں، جس کے بعد قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں طرح کے سرمایہ کاروں میں دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد، مارکیٹ میں 'سیف ہیون' (Safe-haven) کے طور پر سونے کی اہمیت دوبارہ اجاگر ہوئی ہے۔ اگرچہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، لیکن موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈالر پر انحصار کم ہونے کے باعث سونے کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
آخر میں، یہ صورتحال نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہے بلکہ پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے لیے بھی ایک اشارہ ہے جہاں سونے کی خرید و فروخت مقامی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں وفاقی ریزرو کے فیصلوں اور عالمی اقتصادی اعداد و شمار پر نظر رکھنا لازمی ہو گا، کیونکہ یہی عوامل سونے کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔ فی الحال، سونے کے خریداروں کے لیے مارکیٹ کا منظر نامہ خاصا حوصلہ افزا دکھائی دیتا ہے۔